کشمیر بھارت کا نہ تھا نہ کبھی ہوگا، بھارت ریاستی دہشتگردی بند کرے: پاکستان
شائع شدہ تاریخ 17 دسمبر, 2025
سکیورٹی کونسل میں خطاب کے دوران پاکستانی قونصلر گل قیصر سروانی نے بھارتی نمائندے کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی کھلی سرپرستی کے ساتھ ساتھ وہ بھارت ہی ہے جس نے بارہا پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا۔ بھارتی ریاست کا یہ طرزِ عمل ایک روگ ایکٹر 'rogue actor' کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستانی قونصلر نے بتایا کہ شواہد موجود ہیں کہ بھارت کی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد گروپوں میں تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی شامل ہیں، جنہوں نے پاکستان میں مختلف حملے کیے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف بارہا جارحیت کی ہے، جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔
پاکستانی قونصلر نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی بند کرے۔
پاکستانی نمائندے نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کا بیان حقائق کو دانستہ طور پر مسخ کرنے اور ایک بین الاقوامی معاہدے کی غلط تشریح کے مترادف قرار دیدیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کی کسی بھی شق میں یکطرفہ معطلی یا ترمیم کی اجازت نہیں دی گئی۔