وزیراعظم نے مہنگائی کم کرنے کا حل بتادیا
شائع شدہ تاریخ 04 نومبر, 2021
وزیراعظم عمران خان نے دو بڑے اپوزیشن خاندانوں سے کہا ہے کہ گزشتہ 30 سالوں میں انہوں نے جتنا پیسہ چوری کرکے بیرون ملک بھجوایا ہے اگر اس میں سے آدھا بھی حکومت کو واپس کردیں تو وہ ملک میں اشیائے خورونوش کی قیمیتں آدھی کردیں گے اور یہ ان کا پوری قوم سے وعدہ ہے۔ بدھ کو حکومت کی ریلف پیکج سے متعلق قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس سے قبل پاکستان کی تاریخ میں اس طرح کا کوئی فلاحی پروگرام شروع نہیں کیا گیا تھا، احساس پروگرام کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے 3 سال کی محنت سے مستحق خاندانوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جس معاشی صورتحال میں ملک کی باگ ڈور ہمیں پی ٹی آئی کو ملی تھی ایسی پوزیشن اس سے پہلے کبھی اتنی خراب نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسے مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کرنے پر متحدہ عرب امارات اور چین کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی ریلیف پیکج 2 کروڑ خاندانوں کے لیے ہے جس سے تقریباً 13 کروڑ پاکستانیوں کا فائدہ ہوگا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ریلیف پیکج میں مستحق خاندانوں کو آٹَا، گھی اور دال پر 30 فیصد سبسڈی دے رہے ہیں جو اگلے 6 ماہ تک جاری رہے گی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مذکورہ پیکج سے 120 ارب روپے کی سبسڈی مستحق خاندانوں تک پہنچائیں گے اور معاشی صورتحال درست رہی تو اسے آگے بھی بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے اس کے علاوہ بھی 26 ارب روپے کے پروگرام چل رہے ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ کامیاب پاکستان پروگرام کے ذریعے 1400 ارب روپے کے بلا سودی قرضے مستحق افراد کو فراہم کیے جارہے ہیں جس سے وہ کاروبار کے ساتھ اپنے گھر بھی تعمیر کرسکیں گے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپنے وژن کے مطابق پورے پاکستان کو ہیلتھ کارڈ کے صورت میں ہیلتھ انشورنس فراہم کریں گے تاکہ عوام بوقت ضرورت اپنا علاج کرواسکیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 100 فیصد لوگوں کو ہیلتھ کارڈ مل چکے ہیں جبکہ اگلے سال مارچ تک پنجاب میں تمام خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ فراہم کردیے جائیں گے۔