نورمقدم کیس،ذاکر جعفر نے فردِجرم کیخلاف درخواست واپس لے لی
شائع شدہ تاریخ 22 اکتوبر, 2021
نور مقدم قتل کیس میں ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکرجعفر نے فردِ جرم کے خلاف درخواست واپس لے لی ہے۔ جمعہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔ ملزم ذاکرجعفرکے وکیل راجا رضوان عباسی نے درخواست واپس لی۔ ذاکرجعفر کی فرد جرم کے خلاف درخواست:۔ اٹھارہ اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملزم کے والد ذاکرجعفر کی فرد جرم کے خلاف دائر درخواست پرفریقین کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا تھا۔ قتل کیس کے ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکرجعفر نے فرد جرم کو چیلنج کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ذاکر جعفر نے ٹرائل کورٹ کا 14 اکتوبر کا حکم نامہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی۔ ذاکر جعفر کی جانب سے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ٹرائل کورٹ کا آرڈر قانونی نظر سے نامناسب ہے، ٹرائل کورٹ نے تاثردیا کہ فرد جرم پراسیکیوشن کی خواہش کے مطابق ہوتی ہے، آرڈر سے تاثر ملا کہ پولیس جو بھی الزام لگا دے اس پر فردِ جرم ہو سکتی ہے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ٹرائل کورٹ نے تاثر دیا کہ فرد جرم محض ایک مکینیکل مشق ہے،اس لئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ عصمت ذاکر کی ضمانت کا تحریری فیصلہ:۔ ادھر سپریم کورٹ نے نورمقدم قتل کیس میں ظاہر جعفر کی والدہ عصمت ذاکر کی ضمانت کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔3 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس عمرعطا بندیال نے تحریر کیا۔ تحریری فیصلے میں درج ہے کہ عصمت ذاکر کی خاتون ہونے کے ناطے درخواست ضمانت منظور کی جاتی ہے، عصمت ذاکر 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرائیں۔ فیصلے میں درج ہے کہ ضمانت کے غلط استعمال، گواہان پر اثر انداز ہونے کی صورت میں ضمانت واپس لی جاسکتی ہے اور عصمت ذاکر کو فوجداری قانون کی دفعہ 497 کی ذیلی شق ایک کے تحت ضمانت دی جاتی ہے۔ مذکورہ قانون کے تحت 16 سال سے کم عمر ملزم،خاتون یا بیمار کو ضمانت دی جا سکتی ہے۔ فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ ذاکر جعفر کی درخواست ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر خارج کی جاتی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 2 ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا فیصلہ برقرار رہے گا۔ بیس اکتوبر کو نورمقدم قتل کیس میں ایڈشنل سیشن جج عطا ربانی نے کیس ٹرائل کا باقدہ آغاز کردیا ہے۔ ملزم ذاکرجعفر کی فرد جرم کالعدم قرار دینے کی درخواست پر بھی ہائی کورٹ نے نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 اکتوبر 2021 کوجواب طلب کرلیا ہے۔ ماتحت عدالت نے استغاثہ کے پہلے گواہ کا بیان قلمبند کرلیا گیا۔ گواہان میں مقدمے کا تفتیشی کمپیوٹرآپریٹراور نقشہ نویس شامل ہیں۔گواہ کے بیانات پر وکیل نے1 گھنٹہ تک جرح کی۔گواہ سےکیس سے متعلق مختلف سوالات پوچھے گئے۔عدالت نےمرکزی ملزم ظاہر جعفرکا وکیل بھی مقرر کردیا۔ اس کےعلاوہ پیر 18 اکتوبر کو سپریم کورٹ میں نورمقدم قتل کیس میں ملزم ظاہر جعفر کی والدہ عصمت ذاکر کی درخواست ضمانت منظورکی گئی۔عدالت نے عصمت ذاکر کو10 لاکھ روپے کے مچلکے ٹرائل کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دیا ۔ سپریم کورٹ نے ریمارکس دئیے کہ نورمقدم کے قتل میں ملزم کی والدہ کا کردار ثانوی ہے۔ ملزمان کے وکیل کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی گئی۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ سپریم کورٹ ہائیکورٹ کے دو ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کے فیصلے میں مداخلت نہیں کرے گی، ٹرائل کورٹ ملزمان کو شفاف ٹرائل کا پورا حق فراہم کرے۔مقدمے کے فیئر ٹرائل میں کسی صورت کمپرومائز نہیں کیا۔فوجداری مقدمہ 3 دن کا کیس ہوتا ہے۔ دو دو سال سال ٹرائل ہی مکمل نہیں ہونے دیا جاتا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیس کے روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کی ہدایت کردیتے ہیں۔ اس سے قبل ملزمان کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ عصمت ذاکر اور ذاکر جعفر مرکزی ملزمان نہیں،ملزمان کو قتل چھپانے اور پولیس کو اطلاع نہ دینے کا الزام ہے جبکہ قتل چھپانے کے حوالے سے ملزم کا بیان اور کالز ریکارڈ ہی شواہد ہیں۔خواجہ حارث نے بتایا کہ پونے 7 بجے سے 9 بجے تک والد ملزم سے رابطے میں رہا۔ جمعرات 21 اکتوبر کو قتل کیس میں گرفتارخانساماں جمیل احمد کی درخواست ضمانت پراسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔ ملزم کے وکیل راجہ رضوان عباسی اور مدعی کے وکیل بابر علی سمورش عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل درخواست گزار نے ٹرائل کورٹ کی ضمانت منسوخی کا فیصلہ عدالت کو پڑھ کر سنایا۔ جسٹس عامرفاروق نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے درخواست گزار نے 161 کا بیان ریکارڈ کرایا؟ وکیل راجہ رضوان عباسی نے بتایا کہ میرے موکل نے 161 کا بیان ریکارڈ کرایا ہے۔ شوکت مقدم کے وکیل نے بتایا کہ درخواست گزار جمیل کے خلاف چارج فریم ہوچکا ہے،ملزم جمیل کا مالی اور چوکیدار تک کے ساتھ رابطہ تھا،درخواست گزار کی موقع واردات کے گھر پر موجودگی ثابت ہے۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دئیے کہ عدالتی بیان میں تو درخواست گزار نے خود کہا کہ مجھے مالی نے بتایا تھا۔شوکت مقدم کے وکیل کی جانب سے چارج فریم کی کاپی عدالت کو فراہم کی گئی۔ مدعی شوکت مقدم کو نوٹس جاری:۔ تین روز قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملزمان کی جانب سے ڈیجیٹل شواہد فراہمی کی درخواست پر مدعی شوکت مقدم کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا گیا۔شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور نےکمرہ عدالت میں نوٹس وصول کرلیا۔ ٹرائل روکنے کی درخواست پر بھی شوکت مقدم کو نوٹس جاری کیا گیا۔اپیل میں موقف اختیار کیا گیا کہ ہائیکورٹ نے ضمانت کے اصولوں کو مد نظر نہیں رکھا اور حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا گیا۔ درخواست گزار کے وکیل اسد جمال نے استدعا کی ہے کہ ابھی تک اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک رپورٹ اور دیگر شواہد فراہم نہیں کئے گئے۔ سیشن کورٹ نے ملزمان پر جمعرات 14 اکتوبر کو فردِ جرم عائد کردی ہے،بیس اکتوبر کو ٹرائل کورٹ میں شہادتیں قلمبند ہونگی،اس لئے 20 اکتوبر کو کیس سماعت کے لیے مقرر نہ کریں۔ذاکرجعفر اورعصمت ذاکر اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ واضح رہے کہ جمعرات 14 اکتوبر کو ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے ملزمان پر فرد جرم عائد کی۔عدالت میں مرکزی ملزم سمیت 6 ملزمان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کچہری عدالت پیش کیا گیا۔ ضمانت پر موجود تھراپی ورک کے 6 ملزمان بھی عدالتی نوٹس پر ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے۔ مرکزی ملزم ظاہرجعفر،ذاکر جعفر،عصمت آدم،افتخار،جمیل،جان محمد پرفرد جرم عائد کی گئی۔ تھراپی ورک کے طاہر ظہور سمیت6 ملزمان پر بھی فرد جرم عائد کی گئی۔ ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا ہے۔ عدالت نے استغاثہ کے گواہ 20 اکتوبر کو طلب کرلیے ہیں۔ دوران سماعت ذاکر جعفر کے وکیل رضوان نے بتایا کہ عدالت میں پیش شواہد کا ذاکر جعفر سے تعلق نہیں بنتا اوران شواہد کی بنا پر فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔شوکت مقدم کےوکیل نے بتایا کہ ان شواہد کا جائزہ ٹرائل میں لیا جا سکتا کیوں کہ اس وقت فرد جرم عائد کی جا رہی ہے اور سزا نہیں سنائی جا رہی ہے۔ وکیل کے دلائل کے دوران ظاہر جعفر مسلسل مداخلت کرتے رہے۔انھوں نے تھراپی ورکس کے اہلکاروں کی جانب سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بندے میرے گھر داخل ہوئے۔ ظاہر جعفر نے کہا کہ میری زندگی خطرے میں ہے اور یہ میری جائیداد کا ذکر کررہے ہیں،میری جائیداد سے متعلق یہاں بات نہ کی جائے۔ ملزم ظاہر جعفر نے انکشاف کیا کہ نور قربان ہونا چاہتی تھی اور اس نے خود کو قربانی کیلئے پیش کیا۔ ملزم ظاہر جعفر نے کمرہ عدالت میں شوکت مقدم سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لی اور کہا کہ میرے زندگی خطرے میں ہے،مجھ پر رحم کریں۔ظاہر جعفر کا ملازم ملزم افتخار کمرہ عدالت میں رو پڑا اور کہا کہ نور مقدم کا دو سال سے آنا جانا تھا اور مجھے علم نہیں تھا کہ یہ ہوجائے گا۔