اسلام آباد لڑکالڑکی تشددکیس: متاثرہ لڑکی بیان سے منحرف ہوگئی

شائع شدہ تاریخ 12 جنوری, 2022
اسلام-آباد-لڑکالڑکی-تشددکیس:-متاثرہ-لڑکی-بیان-سے-منحرف-ہوگئی

اسلام آباد کے پوش علاقے سیکٹر ای الیون میں لڑکا لڑکی تشدد ویڈیو اسکینڈل کیس میں متاثرہ لڑکی اپنے بیان سے منحرف ہوگئی، سارا ملبہ پولیس پر ڈال دیا۔ عدالت میں جمع کرائے گئے بیان حلفی میں مؤقف اپنایا کہ کسی نے زیادتی کی کوشش نہیں کی، ویڈیو بنانے والے اور عثمان مرزا سمیت تمام ملزمان کو پہچاننے سے بھی انکار کردیا۔ اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون میں 18 نومبر 2020ء کو نوجوان لڑکے اور لڑکی پر تشدد اور نازیبا ویڈیو بنانے کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کی ایف آئی آر 8 ماہ تاخیر سے جولائی 2021ء میں درج ہوئی تھی، مقدمہ ایس ایچ او تھانہ گولڑہ کی شکایت پر 6 جولائی 2021ء کو درج ہوا تھا، جس کے بعد پولیس نے مرکزی ملزم عثمان مرزا سمیت 7 افراد کو حراست میں لے کر عدالت میں پیش کیا، جہاں ان تمام افراد پر 28 ستمبر 2021ء کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک کمرے میں کچھ افراد کے درمیان ایک لڑکے اور لڑکی موجود ہیں اور ایک شخص ان کے ساتھ نازیبا سلوک کررہا ہے۔ دوران تفتیش یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ مرکزی ملزم عثمان مرزا اور دیگر ملزمان نے متاثرہ لڑکی اور لڑکے کو بلیک میل کر کے 13 لاکھ روپے بھی لیے تھے۔ ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد عطاء ربانی کی عدالت میں منگل کو کیس کی سماعت ہوئی، جس میں تشدد اور نازیبا ویڈیو بنانے کے کیس کے متاثرہ لڑکے اور لڑکی کو اپنا بیان ریکارڈ کرانے کیلئے پیش ہونا تھا۔ اسلام آباد تشدد کیس میں دونوں متاثرہ آج عدالت میں پیش نہیں ہوئے تاہم لڑکی نے اپنا بیان حلفی جمع کرادیا۔ بیان حلفی میں لڑکی اپنے پچھلے بیانات سے مکر گئی اور پولیس کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس نے یہ سارا معاملہ خود بنایا، کسی ملزم کو شناخت کیا نہ ہی کسی پیپر پر دستخط کئے۔ لڑکی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پولیس والے مختلف اوقات میں سادہ کاغذوں پر دستخط کراتے اور انگوٹھے لگواتے رہے۔ لڑکی نے استدعا کی ہے کہ کیس کی پیروی کرنا چاہتی ہوں نہ ہی عدالت میں مزید پیش ہونا چاہتی ہوں۔ ایڈیشنل سیشن جج نے لڑکی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو پیش تو ہونا پڑے گا۔ تشدد کی شکار متاثرہ لڑکی کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسی کو بھی تاوان کی رقم ادا نہیں کی، ملزمان کو پہلی بار تھانے میں دکھایا گیا۔ متاثرہ لڑکی کا مزید کہنا ہے کہ بیان حلفی کسی کے دباؤ میں نہیں دے رہی۔ لڑکی کے بیان بدلنے پر وکلاء نے جرح نہ کرنے کا بتایا تو جج عطاء ربانی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا اب کیس کو کسی سائیڈ پر لگانا ہے، جرح تو کریں، عدالت کو عدالت سمجھیں، کیس کی مزید سماعت 18 جنوری کو ہو گی۔ دوسری جانب متاثرین کے سابق وکیل حسن جاوید شورش نے سماء ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ رات تک لڑکے اور لڑکی سے رابطے میں تھا، دونوں نے آج عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی، صبح ساڑھے 7 بجے رابطہ کرنا شروع کیا تو پہلے موبائل بند آرہے تھے، جب موبائل آن ہوئے تو دونوں نے کال اٹینڈ نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے عدالت کو بھی آگاہ کردیا کہ دونوں نوجوان رابطے میں نہیں آرہے، ججز نے کہا کہ کیا انہوں نے کسی خدشات کا اظہار کا تھا کیونکہ ہمیں ان کی حفاظت کو بھی یقینی بنانا ہے، عدالت نے اس کیس کو زیر التواء رکھا ہوا ہے۔ متاثرہ لڑکی کے بيان سے مکرنے پر پولیس کا مؤقف بھی سامنے آگیا۔ ايس ايس پی انويسٹی گيشن عطاء الرحمان کہتے ہيں متاثرہ لڑکی کے بیان بدلنے سے کیس پر اثر پڑے گا، متاثرين نے ملزمان کی شناخت کی تھی اور ملزم نے بھی اعتراف جرم کيا تھا۔ پولیس نے مزید کہا کہ ملزمان کو بچ کر نہیں نکلنے دیں گے، ہمارے پاس بہت سے سائنٹیفک اور فارنزک شواہد موجود ہیں، پراسیکیوشن کے ساتھ مل کر کیس آگے بڑھائیں گے، متاثرین کو بھی تحفظ کا یقین دلایا تھا۔