آغاعلی بھی طلباء کی حمایت میں بول پڑے
شائع شدہ تاریخ 24 اپریل, 2021
آغا علی نے بھی ملک میں کرونا کی تیسری لہرکے دوران بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظرحکومت سے امتحانات لینے کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی ہے۔ آغا علی کے مطابق ” مجھے پورے ملک سے طلباء کے سیکڑوں پیغامات مل رہے ہیں ، اور بھروسہ رکھیں، جو وہ کہہ رہے رہے ہیں منطقی ہے ”۔ انسٹاگرام اسٹوری میں طلبہ کے مؤقف کی حمایت کرنے والی اداکارنے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے لکھا ” تقریبا سبھی انسٹیٹوٹ، اسکولز اورکالج بند ہیں اور سب جانتے ہیں آن لائن کلاسز کتنی مفید ہیں”۔ کرونا وائرس کی نئی لہرکو انتہائی مہلک کہتے ہوئے آغاعلی نے سوال اٹھایا کہ کیا ایسی صورتحال میں یہ خطرہ مول لینا ٹھیک ہے؟ ۔ انہوں نے حکومت سے طلبہ کے سابقہ ریکارڈز کی بنیاد پرترقی دیکرامتحانات منسوخ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ پورا ملک دباؤ کا شکار ہے اور طلبہ کو بھی ذہنی پریشانی کا سامنا ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے 6 اپریل کو این سی او سی کے اجلاس میں اعلان کیا تھا کہ کیمبرج بورڈ کے مارچ میں لیے جانے والے فیصلہ کے مطابق امتحانات 10 مئی کو سخت ایس او پیزکے ساتھ شروع ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ او، اے لیولز کے امتحانات میں 40 ہزار طلباء شریک ہوں گے ، میں چاہتا ہوں کہ طلباء اپنا ذہن منتشرکرنے کے بجائے پڑھائی پرتوجہ دیں۔ اس سے قبل گلوکارعاصم اظہر،حدیقہ کیانی اوروقارذکاء بھی طلباءکے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے امتحانات نہ لینے کی درخواست کرچکے ہیں۔ پاکستان کوکرونا وائرس کی تیسری لہرکا سامنا ہے اور کیسزمیں اضافے کے پیش نظر حکومت نے باہر کھانے پرپابندی ،رمضان میں مارکیٹیں شام 6 بجے بند کرنے اور دفتری اوقات کو دوپہر 2 بجے تک رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 50 فیصد عملہ گھروں سے کام کرے گا۔