پنجشیر میں طالبان اور مزاحمتی فورس کا ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ
شائع شدہ تاریخ 03 ستمبر, 2021
افغانستان کی وادی پنجشیر میں طالبان اور احمد مسعود کی مزاحمتی فورس کے درمیان لڑائی جاری ہے اور دونوں جانب سے ایک دوسرے کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ مقامی مسلح گروہ سے مذاکرات ناکام ہونے پر آپریشن شروع کیا گیا جس میں مخالفین کو بھاری نقصان ہوا ہے، جنگجوؤں نے پنجشیر میں داخل ہو کر متعدد علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ دوسری جانب مزاحمتی تحریک کے ترجمان نے کہا کہ تمام دروں اور داخلی راستوں پر ان کا قبضہ ہے اور وادی کے داخلی علاقے ضلع شتل میں قبضے کے لیے طالبان کی کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق رواں ہفتے کے آغاز میں جب سے لڑائی شروع ہوئی ہے اس وقت سے مختلف مقامات پر بڑی تعداد میں طالبان جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔ طالبان کا کہنا ہے کہ پنجشیر وادی کا چاروں طرف سے گھیراؤ کر لیا گیا ہے اور باغیوں کی کامیابی ناممکن ہے تاہم باغیوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز بھی احمد شاہ مسعود کے بیٹے اور مزاحمتی فورس کے سربراہ احمد مسعود نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر طالبان اپنی حکومت میں افغانستان کے تمام نسلی گروہوں کو شامل کرتے ہیں تو ہم ان کی حکومت کو تسلیم کر لیں گے۔