سوئیڈن کی پہلی خاتون وزیراعظم تقرری کے چند گھنٹوں بعد ہی مستعفی

شائع شدہ تاریخ 25 نومبر, 2021
سوئیڈن-کی--پہلی-خاتون-وزیراعظم-تقرری-کے-چند-گھنٹوں-بعد-ہی-مستعفی

اسٹاک ہوم : سوئیڈن کی نومنتخب پہلی  خاتون وزیراعظم نے تقرری کے چند گھنٹے بعد ہی استعفیٰ دے دیا۔ غیر ملکی خبرررساں ادارے کے مطابق بجٹ پاس نہ ہونے اور حکومت سے اتحادی پارٹی کے الگ ہونے پر میگڈیلینا اینڈرسن نے استعفیٰ دیا۔  میگڈیلینا اینڈرسن کا کہنا ہے کہ اتحادی پارٹی کے ساتھ چھوڑنے پر مخلوط حکومت کواستعفیٰ دینا ہوتا ہے۔ ایسی حکومت کی قیادت نہیں کرناچاہتی جس کی قانونی حیثیت پر سوالیہ نشان لگ جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ صرف بطور سربراہ سوشل ڈیموکریٹس پر مشتمل اقلیتی حکومت جلد دوبارہ اس عہدے پر منتخب ہونےکی امید ہے۔ پارلیمنٹ کے سپیکر نے کہا کہ وہ اگلے اقدام پر پارٹی رہنماؤں سے رابطہ کریں گے۔ یاد رہے کہ سوئیڈش پارلیمنٹ نے میگڈالینا اینڈرسن کو بدھ کے روز وزیر اعظم کے طور پر منتخب کیا گیا تھا کیونکہ سوئیڈن کے قانون کے تحت انہیں صرف اس چیز کی ضرورت تھی کہ ارکان پارلیمنٹ کی اکثریت ان کے خلاف ووٹ نہ دیں۔ سوئیڈن کی خواتین کو ووٹ دینے کے100 سال بعد، 54 سالہ سوشل ڈیموکریٹ رہنما کو اس موقعے پر پارلیمنٹ کے کچھ اراکین نے کھڑے ہو کر داد دی تھی۔ میگڈالینا اینڈرسن یونیورسٹی سٹی اپسالا سے فارغ التحصیل ہیں اور ایک جونیئر سوئمنگ چیمپئن رہ چکی ہیں۔ انھوں اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 1996 میں اس وقت کے وزیر اعظم گوران پرسن کی سیاسی مشیر کے طور پر کیا ۔ وہ گذشتہ سات سال وزیر خزانہ کے طور پر گزار چکی ہیں ۔ میگڈالینا اینڈرسن کے انتخاب سے پہلے سوئیڈن واحد نارڈک ریاست تھی جہاں کبھی  کسی  خاتون وزیر اعظم  کی تقرری نہیں کی گئی ۔