تہران میں سابق افغان سکیورٹی کمانڈر قتل، طالبان حکومت مخالف موقف تھا

شائع شدہ تاریخ 26 دسمبر, 2025
تہران-میں-سابق-افغان-سکیورٹی-کمانڈر-قتل،-طالبان-حکومت-مخالف-موقف-تھا

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اکرام الدین سری کو تہران کی ولی عصر اسٹریٹ پر اپنے دفتر سے نکلتے وقت گولی ماری گئی، انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

اکرام الدین سری افغانستان کی سابق حکومت کے دور میں سکیورٹی کمانڈر تھے اور صوبہ تخار اور بغلان کے پولیس سربراہ رہ چکے ہیں۔

اکرام الدین سری طالبان کے سخت ناقد سمجھے جاتے تھے۔  حکومت کے خاتمے کے بعد وہ طالبان کے خلاف آواز بلند کرتے رہے۔ افغان طالبان حکومت کے بعد اکرام الدین نے ایران میں پناہ لے لی تھی۔  

ایران حکام نے اکرام الدین پر حملے کو ٹارگٹڈ قرار دے کر تحقیقات کا آغاز کردیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ستمبر میں مشہد میں طالبان مخالف رہنما اسماعیل خان کے قریبی ساتھی مروف غلامی کو بھی ان کے دفتر میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔