احتجاج کے سامنے امریکی حکومت بے بس ،پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج
شائع شدہ تاریخ 04 جون, 2020
امریکی ریاست منیپولس کے پولیس افسر جس نے سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ کی گردن پر گھٹنا رکھ کر مارا تھا اس پر مزید سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔ اس پولیس افسر کے علاوہ جائے وقوعہ پر موجود دیگر تین پولیس افسران پر بھی قتل میں معاونت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ مینیسوٹا کے اٹارنی جنرل کیتھ ایلسن نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ اب جارج فلائیڈ، اس کے اہل خانہ اس طبقے کو اور اس ملک کو انصاف ضرور ملے گا۔ جارج فلائیڈ کے پولیس حراست میں قتل کے ایک ہفتہ بعد امریکہ میں ملک گیر احتجاج شروع ہو گیا جس میں سیاہ فام شہریوں نے نسلی امتیاز سے متعلق نعرے بلند کیے۔ جارج فلائیڈ کی گردن پر 9 منٹ تک گھٹنےسے زور ڈالنے والے پولیس افسر ڈیریک چووین پر پہلے تیسرے درجے کی قتل کی دفعات اور دوسرے درجے کے تشدد کی دفعات لگائی گئیں تھیں۔ جبکہ اب دوسرے درجے کی نئی دفعات کے تحت مقدمے میں لکھا گیا کہ ڈیریک چووین نے جارج فلائیڈ کا قتل کیا مگر وہ اس کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ جارج فلائیڈ کے قتل میں ملوث ڈیریک چووین، ٹؤوتھاؤ، تھامس لین اور جے الیگزینڈر کوئینگ کو قتل ،اقدام قتل اور قتل میں معاونت جیسی دفعات کا سامنا ہے۔ جارج فلائیڈ کے قاتل 44 سالہ ڈیریک چووین کو گزشتہ ہفتے گرفتار کر کے اوک پارک میں زیر حراست رکھا گیا تھا اب نئی دفعات کے تحت عدالتی دستاویز کے مطابق اس کی ضمانت کی رقم میں دس لاکھ ڈالر اضافہ کر دیا گیا ہے۔ دوسرے درجے کے قتل کی دفعات کی سزا40 سال اور قتل میں معاونت کی سزا10 سال تک بنتی ہے فلائیڈ کے پوسٹمارٹم کی رپورٹ میں لکھا گیا کہ اس کی موت خود کشی کے باعث ہوئی ہے، اس الزام کے ثابت ہونے پر مینیپولس پولیس چیف نے ان چاروں پولیس اہلکاروں کو نوکری سے برطرف کر دیا اور کہا کہ یہ چاروں جارج فلائیڈ کی موت میں شریک ملزم ہیں۔جس کے بعد فلائیڈ کے اہل خانہ اور ملک بھر میں مظاہرین نے ان چاروں کو گرفتار کرنے اور ان پر قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔