پرائیویسی میں خلل ڈالنے کا مقدمہ،فیس بک نو کروڑ ڈالر کی ادائیگی پر رضامند
شائع شدہ تاریخ 16 فروری, 2022
فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا پر ایک دہائی سے مقدمہ چل رہا ہے جس میں اس پر الزام لگایا گیا ہے کہ یہ صارفین پر اس وقت بھی نظر رکھے ہوئے ہوتا ہے جب وہ فیس بک استعمال نہیں بھی کر رہے ہوتے۔ اس کیس کو طے کرنے کے لیے فیس بک نے نو کروڑ ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے عدالتی ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ فیس بک نے رقم ادا کرنے کا راضی نامہ پیر کو امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کی ایک عدالت میں جمع کروایا ہے۔ کسی جج سے اس کی منظوری حاصل ہونے کی صورت میں یہ کیس بند کردیا جائے گا، جو کہ فیس بک کے خلاف ان متعدد مقدمات میں سے ایک ہے جن میں فیس بک پر صارفین کی پرائیوسی میں خلل پیدا کرنے کا الزام لگایا گیا۔ میٹا کے ترجمان ڈریو پوساتری نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’ایک دہائی سے زیادہ پرانے اس کیس کی سیٹلمنٹ ہماری کمیونٹی کے مفاد میں ہے اور ہم اس مسئلے سے نکلنے پر خوش ہوں گے۔‘ مقدمے کے تحت فیس بک پر الزام ہے کہ وہ صارفین کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہے۔ یعنی کمپنی فیس بک کے علاوہ بھی ان ویب سائٹس تک صارفین کی رسائی کی معلومت رکھتی ہے جن کو فیس بک کے استعمال کے دوران صارفین ’لائک‘ کرتے ہیں۔ فیس بک پر الزام ہے کہ وہ ایسا اس لیے کرتا ہے تاکہ صارفین کی پسند کے مطابق اشتہارات کے چناؤ میں بہتری لائی جاسکے۔ تاہم عدالتی دستاویزات کے مطابق فیس بک کا یہ مبینہ اقدام کمپنی کی یقین دہانی کے برعکس ہے۔ یہ مقدمہ ان افراد کی طرف سے ہے جو سال 2010 کے اوائل سے لے کر 2011 کے اواخر تک فیس بک پر سرگرم تھے۔ قانونی دستاویزات کے مطابق اگر صارفین فیس بک سے جڑی کسی ویب سائٹ پر کلک کرتے ہیں تو فیس بک کو اس کا پتا چل جاتا ہے۔ تاہم فیس بک کے مطابق اس مسئلے سے نمٹ لیا گیا ہے اور یہ صارفین کی سرگرمیوں کو متاثر نہیں کر رہا۔ مجوزہ تصفیے کے تحت فیس بک سے نو کروڑ ڈالر ادا کرنے کا کہا گیا ہے اور مقدمے کے مطابق غلط طریقے سے جمع کیے گئے ڈیٹا کو ڈلیٹ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔